کیوں ایک مرجع ایک چیز کو واجب کہتا ہے تو دوسرا حرام ؟

salamun alaikum wrahma

kia kuch maraje ke darmiyan is had tak ikhtelf paya jata hia ki aik khe wajib hai dsora khe hram hai awr agar aisa hai to kiun aisa hai iska jwab dne ki zahmat kren?

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ

پوری تاریخ میں شیعہ فقہ کے تمام ابواب میں سے کسی بھی مسئلہ میں، ہمارے فقہا کے درمیان اس طرح کا اختلاف کبھی رہا نہیں ہے کہ ایک عالم نے کسی چیز کو واجب کہا ہو تو دوسرے نے حرام ؛ مراجع کے درمیان جو اختلاف ہوتا ہے اس میں تضاد نہیں پایا جاتا اسی لئے مقام عمل میں قابل جمع ہوتا ہے ؛ مثال کے طور پر یہ ہو سکتا ہے کہ ایک مرجع کسی چیز کے سلسلہ میں حرام کا فتوا دے تو دوسرا مکروہ کہے ، یا ایک مرجع واجب کہے تو دوسرا مستحب کہے ، ظاہر سی بات ہے اگر مقام احتیاط میں کوئی بیک وقت دونوں کے فتووں پر عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ، حتی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک مرجع کسی چیز کو حرام قرار دے تو دوسرا اسے جائز قرار دے ، اس صورت میں بھی یہ اختلاف تضاد کی حد تک نہیں ہے کیونکہ مقام عمل میں دونوں قابل جمع ہے، کیونکہ جائز کا مطلب یہ نہیں کہ حتما انجام دیا جائے لہذا ترک عمل کے ذریعہ دونوں فتووں پر عمل کیا جا سکتا ہے ۔ تو مقام عمل میں تمام مراجع کے اختلاف فتاوا قابل جمع ہیں ۔ بس ایک ایسا مورد پیش آ جاتا ہے جہاں اختلاف واجب اور حرام کی حد تک کا ہو جاتا ہے ، جب اختلاف ہو کہ آج عید ہے یا رمضان ، لیکن یہ بھی حکم میں اختلاف نہیں ہے بلکہ موضوع میں اختلاف ہے یعنی شبہہ موضوعیہ کی بنا پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس ایک مورد کے علاوہ اس طرح کا اختلاف کہیں نہیں پایا جاتا ۔

अगर आप हमारे जवाब से संतुष्ट हैंं तो कृप्या लाइक कीजिए।
0
شیئر کیجئے
सम्बंधित सवालः