حقوق الناس کی بھرپائی کیسے کی جا سکتی ہے ؟

سلام علیکم 

مزاج گرامی

دوسروں کے حقوق جو گذشتہ دور میں مجھ سے ضایع ہوئے ہیں، جو کہ مجھے یاد بھی نہیں کس کے ہیں، کیا ہیں، اور کتنے ہیں، اب میں ان حقوق کی بھرپائی کرنا چاہتا ہوں ، کیا کروں ، کیسے کروں، براہ کرم راہنمائی کیجئے ۔

جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ 

پہلی بات : یوں تو حقوق کی دو قسم کہی جاتی ہے حقوق اللہ اور حقوق الناس ، لیکن سچی بات یہ ہے کہ حقوق الناس بھی حقوق اللہ کی فرع ہے ، اس لحاظ سے ہر حق الناس در حقیقت حق اللہ بھی ہے ، حق الناس کو پامال کرنے والا حقیقت میں حق اللہ کو بھی پامال کیا ہے، اس لئے حق اللہ کی پامالی کی وجہ سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرے ۔ 

دوسری بات : حقوق الناس کی بھرپائی صرف توبہ اور استغفار سے نہیں بلکہ اسے جبران کرنے سے ہوتی ہے ، اور حقوق الناس بھی دو طرح کے ہیں : مالی حقوق اور غیر مالی حقوق ۔ مالی حقوق کے لئے اسے ادا کرنا ضروری ہے ، اور غیر مالی حقوق کے لئے اس سے حلالیت طلب کرنا ضروری ہے ۔

تیسری بات : حقوق اللہ کا حساب سن بلوغ سے ہوتا ہے لیکن حقوق الناس کا حساب سن بلوغ سے نہیں بلکہ اگر بلوغ سے پہلے بھی کسی کا مال ضایع کیا ہے تو وہ اس مال کا ضامن ہے ، کیونکہ بلوغ سے پہلے اگرچہ احکام تکلیفی نہیں ہوتے مگر احکام وضعی مترتب ہوتے ہیں ۔

چوتھی بات : جس کا حق ہے یا آپ اسے پہچانتے ہیں یا نہیں پہچانتے ، اگر پہچانتے ہیں تو یا اس تک رسائی ہے یا رسائی نہیں ہے ، اگر رسائی ہے تو یا رسوائی کا خوف ہے یا یہ خوف نہیں ہے ، تو اگر رسائی ہے اور رسوائی بھی نہیں ہے تو خود صاحب حق کو اس کا حق ادا کرکے بری الذمہ ہوجائے ، لیکن اگر رسوائی کا خوف ہو تو ناشناس انداز میں کسی طرح سے اس کا حق اس تک یا اگر وہ مر گیا ہے تو اس کے ورثا تک پہنچا دے ،  نہ نام لینے کی ضرورت ہے ، اور نہ باقی تفصیلاتی کی ضرورت ہے۔ مہم یہ ہے کہ آپ کی طرف سے صاحب حق تک اس کا حق کسی طرح سے پہنچ جائے ۔ اور اگر کسی بھی وجہ سے صاحب حق تک رسائی نہ ہو یا آپ اسے پہچانتے ہی نہ ہوں تو اس کی طرف سے رد مظالم کے طور پر حاکم شرعی کو ادا کرے ، نیز اس کی طرف صدقہ کرے ، اور کار خیر انجام دے ۔ 

پانچویں بات : ادا کرنے کی مقدار کے سلسلہ میں اگر وہ مقدار معین اور معلوم ہے تو اتنا ہی ادا کر دے اور بری الذمہ ہو جائے لیکن اگر مقدار نہیں معلوم تو قدر متیقن مقدار ادا کرنا تو واجب ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ اتنا بڑھا کے ادا کرے کہ بری الذمہ ہونا قطعی ہوجائے ۔

چھٹی بات : اگر ادا کرنے والے کے پاس ابھی اتنی مقدار نہ ہو تو جب بھی وہ مقدار اسے فراہم ہو جائے پہلی فرصت میں دوسروں کے حقوق کو ادا کرے ۔ اور اگر آخری عمر تک ادا نہ کر سکے تو اپنے ورثا کو وصیت کرے کہ یا صاحب حق کو اس کا حق ادا کرے یا اس کی رضایت حاصل کریں ۔ اور اگر کسی سے کچھ بھی ممکن نہ ہو تو کثرت کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور اس کے لئے کار خیر انجام دے جیسے قضا نمازیں ، روزہ ، قرآن کی تلاوت وغیرہ ، ہو سکتا ہے ان کار خیر کی بدولت اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے صاحب حق کو راضی کروا لے ۔  

Khamenei.ir

Leader.ir 1

Leader.ir 2

Leader.ir 3

Sistani.org

Pasokhgoo.ir

अगर आप हमारे जवाब से संतुष्ट हैंं तो कृप्या लाइक कीजिए।
0
شیئر کیجئے