کیا خون کے ذریعہ ائمہ طاہرین کا نام لکھنا صحیح ہے ؟

آج کل ایک رسم بنی ہے کہ کچھ لوگ اپنے جذبات کی شدت کو دکھانے کے لئے ائمہ طاہرین علیھم السلام کا نام اپنے خون سے لکھتے ہیں ۔ کیا شریعت کی نگاہ میں یہ صحیح ہے ؟

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ

وہ اسمائے متبرکہ جنہیں بغیر وضو مس نہیں کیا جا سکتا ، انہیں نجس کرنا شدیدا حرام ہے ، اور اگر اتفاق سے ان پر نجاست آ جائے تو انہیں پاک کرنا واجب فوری ہے یعنی فورا بلا تاخیر اسے پاک کرنا ضروری ہے ، اس بنا پر نجس روشنائی سے لکھنا بھی اسے نجس کرنے کے حکم میں ہے ، جس سے پرہیز ضروری ہے ۔ حتی ائمہ طاہرین علیہم السلام سے متعلق متبرک اشیا جیسے خاک شفا بھی اسی حکم میں شامل ہیں ۔ یعنی خاک شفا کو نجس کرنا جائز نہیں ہے اور اگر نجس ہوجائے تو فورا پاک کرنا ضروری ہے ۔

آیۃ اللہ خامنہ ای ، اجوبه الاستفتائات ، س 164 Khamenei.ir

آیۃ اللہ سیسیتانی ، توضیح المسائل جامع، مسئلہ 403، 405 ، 411 Sistani.org

اس حکم کی روشنی میں جہاں نجس روشنائی سے اسمائے متبرکہ لکھنا صحیح نہیں تو عین نجاست سے لکھنا بہرحال غلط ہے ۔


अगर आप हमारे जवाब से संतुष्ट हैंं तो कृप्या लाइक कीजिए।
0
شیئر کیجئے